‏باقی سارے قصے نے رٙدّبس قل ھو اللّٰه ھو احد

‏لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ ، لَهُ المُلْكُ ، وَلَهُ الحَمْدُ ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

‏اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّعَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَاصَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيد

اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍكَمَابَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَّجِيد

‏اسلام ایک ایسا دین ہے جو خیروبرکت اور امن وسلامتی سے عبارت ہے۔ اس میں اپنے پرائے، واقف ناواقف ، بڑ ے چھوٹے ، حاکم محکوم ، عورت مرد، ہر ایک کے حقوق کا نہ صرف یہ کہ اہتمام کیا گیا ہے بلکہ ان کی ادائیگی کو عبادت قرار دیا گیا ہے
‏اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے انفرادی طور پر معاشرے میں ہر اک کا حق مقرر کیا ہے تاکہ حقوق و فرائض کے ذریعے ہر انسان کی تربیت کی جائے۔

‏سُبْحَانَ رَبِّيَ الْعَظِيْمُ‏
‎سبحان ربی الاعلی

‏الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ

‏رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اللہ تعالیٰ کی سب سے زیادہ پسندیدہ نیکی یہ ہے کہ
تم کسی مسلمان کی زندگی میں خوشی کا داخل کرو
یا اسکی تکلیف و پریشانی کو دور کرو
یا اس کے قرض کی ادئیگی کا انتظام کرو
یا اس کی بھوک کو ختم کرو

‏رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي وَيَسِّرْ لِي اَمْرِي وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي يَفْقَهُوا قَوْلِي
اے میرے رب! میرا سینہ میرے لئے کھول دے اور میرے کام کو مجھ پر آسان کر دے اور میری زبان کی گرہ بھی کھول دے تاکہ لوگ میری اچھی طرح بات سمجھ سکیں

‏دُکھی انسانیت کی خدمت سب سے بڑی عبادت ہے ، سب لوگوں کو اپنی بساط کے مطابق اس معاشرے کو سدھارنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہوگا

‏ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان، نئی آن
گفتار میں، کردار میں، ﷲ کی برہان!
قہاری و غفاری و قدوسی و جبروت
یہ چار عناصر ہوں تو بنتا ہے مسلمان

علامہ اقبال

‏اگر ہم واقعی یہ چاہتے ہیں کہ آنے والے دور یعنی مستقبل میں ہمارا کوئی بامعنی و بامقصد کردار ہو تو ہمیں نسلِ نو کی تربیت کے ذریعے نسلِ نو کے شعور میں ایک بنیادی تبدیلی پیدا کرنی ہے۔ وہ تبدیلی یہ ہے کہ ہم نے انہیں مقصدیت سے آشنا کرنا ہے اور انہیں ان کے منصب کا احساس دلانا ہے۔

‏سائنس کی وہ ترقی جس کی بنیاد جابر بن حیان، ابو یعقوب الکندی، اور ابن الہیثم جیسے مسلم سائنسدانوں نے رکھی تھی، امت مسلمہ کی پہنچ سے دور ہماری حالت زار پر ماتم کررہی ہے۔ اور منتظر ہے کہ اس قوم کا کوئی فرد، گروہ یا طلباء پھر سے اسے ترقی بخشیں

‏‏ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﻭَﺑِﺤَﻤْﺪِﻩِ ﺳُﺒْﺤَﺎﻥَ ﺍﻟﻠَّﻪِ ﺍﻟْﻌَﻈِﻴﻢِ

یہ روز روز کی تاریخیں ریفرنس پیشیاں آخر کیوں ؟؟؟

ایک دفعہ ملا نصیر الدین بازار سے جا رہے تھے کہ پیچھے سے کسی نے انہیں زور سے تھپڑ مارا۔

ملا صاحب نے غصے سے پیچھے دیکھا، وہ شخص گھبرا کر بولا۔

“معاف کرنا میں سمجھا، میرا دوست ہے”

ملا صاحب نے کہا. “نہیں، چلو عدالت چلتے ہیں۔ “

جج صاحب کے سامنے اپنا مدعا پیش کیا۔

جج نے اس شخص کا خوف دیکھ کر کہا :
“کیوں جناب! تم تھپڑ کی قیمت دو گے یا ملا صاحب آپ کو بھی تھپڑ لگائیں؟”

اس شخص نے نے کہا۔

“جناب! میں تھپڑ کی قیمت دوں گا

لیکن ابھی میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میری بیوی کےپاس کچھ زیور ہیں، وہ میں لے آتا ہوں۔ “

جج نے کہا : “ٹھیک ہے، جلدی آؤ۔ “

ملا صاحب انتظار کرتے کرتے تھک گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا، ملا صاحب اٹھے اور ایک زور کا “چھانپڑ” جج کو مارا اور کہا :

“اگر وہ زیور لاۓ تو تم لے لینا۔ “

معزز عدلیہ و نیب جتنی جلدی ہو سکے مجرموں سے زیور یا نقد مال و زر نکالو. یہ روز روز کی تاریخیں ریفرنس پیشیاں پروڈکشن آرڈر اور ضمانت قبل از گرفتاریاں ختم کرو

ورنہ یہ نہ ہو کہ عوام بھی ملا نصیرالدین بننے پر مجبور ہو جائے..!!!

پاکستان ترقی کی طرف ایک بڑا قدم

‏نون لیگ کے5سالہ اقتدارکےبعد، تحریک انصاف کی حکومت سے2ماہ قبل 20 جون 2018 کو موڈیز نے پاکستانی معیشت سے “مستحکم” ہٹاکر “منفی” کا لیبل چسپاں کردیا۔ ہماری حکومت کے 15ماہ بعد موڈیز نےاسے “منفی” سےنکال کر “مستحکم” کےدرجےمیں شامل کرلیا۔فیصلہ آپکا! کس نےمعیشت تباہ کی اورکون تعمیرکررہاہے
‏حکومتِ پاکستان کا معیشت کو مستحکم کرنے کی جانب ایک قدم. بیرونی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور اعتماد میں اضافہ ہی معیشت کی بہتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
‏حکومتِ پاکستان کا معیشت کو مستحکم کرنے کی جانب ایک قدم. بیرونی سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور اعتماد میں اضافہ ہی معیشت کی بہتری کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
‏‎کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں کمی ہو گئی.. ڈالر کی قدر میں بھی کمی.. ایکسپورٹ میں دس فیصد اضافہ. سٹاک ایکسچینج بھی اضافے کے بعد 40 ہزار کی حد عبور کر گئی

کدھر ہیں وہ اینکر، تجزیہ کار اور احسن اقبال صاحب جو کہتےتھے کہ معیشیت تباہ ہو جائے گی، ڈالر 200 روپے تک چلا جائے گا؟
‏‎‎فرق پڑتا ھے جب بہترین قیادت ھو تو مثبت نتائج ھی سامنے آتے ھیں

ذہنی سکون اور راحت

السلام علیکم
“ذہنی سکون”
زندگی میں صرف ایک کام کرنا چاہئے خوش رہنے کی کوشش کرنا چاہئے
قرآن کی سوره الرعد کی ایک آیت:
اَلَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُـهُـمْ بِذِكْرِ اللّـٰهِ ۗ اَلَا بِذِكْرِ اللّـٰهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ (28)
یعنی وه لوگ جو ایمان لائے اور جن کے دل اللَّه کی یاد سے مطمئن ہوتے ہیں – سنو اللَّه کی یاد ہی سے دلوں کو اطمینان حاصل ہوتا ہے –
قرآن کی اس آیت میں اطمینانِ قلب سے مراد ذہنی سکون ہے – انسان جب ذہنی سکون سے محروم ہوتا ہے تو اس کا سبب صرف ایک ہوتا ہے ، اور وه ہے اللَّه کے تخلیقی نقشہ پر راضی نہ ہونا – انسان جب اللَّه کے تخلیقی نقشہ پر راضی ہو جائے تو اسی کا نام ذہنی سکون ہے ،
اور جب اللَّه کے تخلیقی نقشہ پر راضی نہ ہو تو اس سے وه چیز پیدا ہوتی ہے جس کو ذہنی سکون سے محرومی کہا جاتا ہے –
اسکو حاصل کرنے کے لئے ایک فلسفہ ہے جس کو اپنانا پڑتا ہے لمحہ بہ لمحہ، یہ ایک ایسا فلسفہ ہے کہ اگر ہم اس پہ عمل نہیں کریں گے تو ہمیں محسوس بھی نہیں ہوگا
اس بات کو
A Guide to the Good Life: The Ancient Art of Stoic Joy
William B. Irvine
میں آرتھر نے بہت آسان کردیا اس نے کہا
پہلا اصول:-
جو کچھ ہمارے پاس ہے اسکو چاہیں اور پسند کریں
اور جو ہمارے پاس نہیں ہے اسکو رد کردیں۔
دوسرا اصول:-
وہ کہتا ہے کہ منفی جذبات (negative emotion ) کو ہم اپنے دماغ سے نکالیں، اور یہ نکالے جاسکتے ہیں
محنت کی طاقت سے، ایکشن کے ساتھ
Because we every thought will something
فیض صاحب کا شعر ہے
بربادئِ دل جبر نہیں فیض کسی کا
وہ دشمنِ جاں ہے تو بُھلا کیوں نہیں دیتے
غالب کچھ اس طرح کہتے ہیں کہ
لطافت بے کثافت جلوہ پیدا کر نہیں سکتی
چمن زنگار ہے آئینۂ بادِ بہاری کا
تیسرا اصول:-
جن لوگوں سے ہم کو خوشی ملتی ہے جب وہ ہمارے پاس ہوں چاہے وہ والدین ہوں، اولاد ہوں بہن ہو بھائی ہوں یا جو بھی ہو وہ لمحہ ضائع نہ کریں کسی بھی اور بات سوچنے پہ۔۔۔
اشفاق صاحب کی تھیوری ہے کافی پرانی ہے کہ
ایک پَل ہے جو گزر گیا ہےاس پہ کڑھنے کا کیا فائدہ
ایک پَل ہے جو آیا نہیں اس سے ڈرنے کا کیا فائدہ
اس کتاب کے آرتھر کا خیال یہ ہے خوشی کے لئے ضروری ہے ذہنی سکون
یعنی کڑھنا نہیں ہے
اب negative emotion کیا ہوتا ہے
حسد، نفرت اور غصہ
یہ سب نیگیٹو ایموشن ہیں
تعصب، حسد، جہالت، بےصبری۔
اور پھر یہ خیال کہ باقی سب غلط ہیں ہم ہی ٹھیک ہیں
ایک بات اور کہی ہے کہ
“انسان کی جبلت اور خاصیت میں شامل ہے کہ اسے پسند کیا جائے”
لوگ کہیں کہ ہم اچھے ہیں
او بھئی،🤔
ہم میں کچھ ہو تو ہم کو پسند کیا جائے نا؟ 🙄🙄
تو ہم نے پیدا کرنی ہے وہ سب چیزیں اپنے اندر۔
منیر نیازی کا شعر کہ
وہم مجھ کو عجب ہے اے جمالِ کم نماء
کہ سب کچھ ہو اور تو دید کے قابل نہ ہو
دید کے قابل ہوں گے تو ہم کو پسند کیا جائے گا
اگر ہم مغرور ہیں تو کون ہم کو پیار کرے گا
اگر ہمارے گردن میں سریا ہے
ہم دوسروں کو حقیر سمجھتے ہیں
Why would anybody like me
اگر ہم اعتبار کے قابل نہیں ہیں تو،
اگر ہمیں کوئی بات بتائےتو ہم سے چھپتی نہیں ہے تو،
ہمارے اندر وہ چیزیں ہونی چاہیئے جس کی وجہ سے لوگ ہم کو پسند کریں گے
یا ہم چاہیں سب ہم کو پسند کریں
تو
اسکے لئے ہمیں خود میں وہ سب کچھ سب پیدا کرنا ہوگا
حسنِ اخلاق میں ایک ٹِکا خرچ نہیں ہوتا اور مسکرا کے بات کرنے سے ایک ڈھیلا نہیں جاتا جیب سے۔
آئیے ہم ایک ہفتہ خوش اخلاقی کا منائیں
ایک ہفتہ مسکرانے کا منائیں
صبح جب اٹھیں تو ہر ایک سے مسکرا کے ہم کلام ہوں
زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ لوگ کہیں گے پاگل ہے 😊
مگر ہماری بات مانیں صرف یہ دو ہفتے کی محنت سے ہی ہم اپنے اندر تبدیلی دیکھیں گے۔
اور یہی تبدیلی ہم کو ذہنی سکون دے گی انشاء اللَّہ!
الله تعالیٰ ہم سب کی توفیقات میں اضافہ فرمائے۔
“آمین یا رب العالمین ”
وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰی
سورہ طہ “47”

سوچ طاقت کا سر چشمہ

سوچ طاقت کا سرچشمہ ہے
سوچنا انسان کی اپنی دریافت کا سبب بنتا ہے۔
سوچ کے ذریعہ انسان ان چیزوں کو پالیتا ہے جو اس سے چھپی ہوتی ہیں ۔
سوچ کے ذریعہ انسان کائنات کے اسرارو رموز کوپالیتا ہے ۔
سوچ انسان کے لیے خدا کی معرفت کا سبب بنتی ہے۔
سوچ کے ذریعہ انسان یہ جانتا ہے کہ وہ دنیا میں کیوں آیا ہے
اور اسے یہاں کون سا کردار ادا کرنا ہے؟
سوچ انسان کو بتاتی ہے کہ کسی معاملہ میں صحیح رویہ کیا ہوسکتا ہے۔
یہ سوچ ہے جس نے انسان کو پتھر کے زمانے ( Stone Age)
سے نکال کر کلٹیویشن ایج
‏( cultivation age)
میں پہنچا دیا۔
اسی سوچ کے ذریعہ انسان کلٹیویشن ایج سے نکل کر سوپر ٹیکنالوجی ایج
‏(Super-Technology )
میں پہنچاہے ۔
اگر یہ کہا جائے تو غلط نہیں ہو گا کہ اسی سوچ کے ذریعہ انسان ،انسان کامل بن سکتا ہے۔انسان اگر انسان ہے، تو اسی سوچ کی وجہ سے ہے۔
رین ڈسکارتے ( René Descartes, (1596–1650) was a French philosopher )
نے کہا ہے ۔
‏”” I think therefore i am “
میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں ‘۔
یعنی زمین پر انسانی وجود صرف اس لیے باقی ہے
کیونکہ انسان سوچتا ہے۔
اگر انسان سوچنا چھوڑ دے تو اس کا وجود ہی خطرے میں پڑ جائے گا۔
سوچ وہ طاقت ہے جس کے ذریعہ انسان نے بڑے بڑے معرکے سر کئے ہیں۔
وہ کم سخن نہ تھا پر بات سوچ کر کرتا
یہی سلیقہ اسے سب میں معتبر کرتا
“تیمور”
اگر ہم سوچیں تو ہم کبھی بھی اپنے آپ کو کمزور نہیں پائیں گے–
ہم اپنے اندر طاقت کا وہ ذخیرہ پالیں گے
جس کا سامنا کرنا کسی کے لیے آسان نہیں ہوگا۔
“وَالسَّلَامُ عَلٰى مَنِ اتَّـبَعَ الْـهُدٰى”
(سورہ طہ-47)
التماسِ دعا
“روبی عابدی

خالق کائنات کون ؟؟؟

خالق کائنات کون؟

ہم کون ہیں؟ ہم کیوں اس دنیا میں موجود ہیں ؟ اس کائنات کو کسی نے تخلیق کیا  یا اتفاقا خود بخود معرض وجود میں آگئی؟ اس طرح کے لا تعداد سوالات انسانی ذہن میں آتے ہیں ……
The Creator: The idea of a Supreme Power who is the First Cause of all things, the Creator and Ruler of heaven and earth has always been part of human nature from the beginning. He was not represented by images and had no temple or priests in His service. He was too exalted for an inadequate human cult. Hence there had been a primitive monotheism before people had started to worship a number of deities. Generally He faded from the consciousness of his people who formed images of many deities, His assistants, thus began the paganism. The name given to this divine Supreme Creator and Sustainer in English is GOD. The belief of a Supreme deity who created the world and governs it, still remains among the primitive African tribes. The belief on God was followed by His worship in different cultures. The relation of a group of human beings to God or the gods or to whatever they consider sacred or, in some cases, merely supernatural is known as religion. Keep reading >>>
….ان سوالات کے جوابات فلسفی، مفکر، مذہبی پیشوا اورسائنسدان صدیوں سےمعلوم کرتے اور پیش کرتے رہے ہیں- ان میں ایک عظیم طاقت کا تصورنمایاں طور پر ابھر کر سامنے آتا ہے، جس کوکچھ لوگ (ضروری نہیں کہ وہ سائنسدان ہوں) عظیم ہستی  خدا اور کچھ   فطرت اورغیر مرئی طاقت جیسے ناموں سےجانتے ہیں- انسانوں کے گروہوں کے خدا یا دیوتاؤں (یا جس کسی کو بھی وہ مقدس، مافوقِ الفطرت طاقت و ہستی سمجھتے ہوں) کے ساتھ تعلق کوعمومی طور پر’مذہب’ کے طور پر جانا جاتا ہے- باقی لوگوں کو لا مذھب کہا جا سکتا ہے- سب سے اہم مسئلہ جو  خدا کو ماننے والوں کی توجہ کا مرکز رہا؛ کہ  کس طرح عقل سے خدا کے وجود کو ثابت کیا جائے؟ یہی اس تحقیقی مقالہ کا موضوع ہے-

اس کتاب میں اس سے منسلک موضوعات کےجوابات تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے- ابراہیمی مذاھب یعنی یہودیت، مسیحیت اور اسلام، تلاش حق کی فطری انسانی خواہش کو علم وحی کے ذریعےجو کہ نبیوں اور رسولوں پر نازل ہوتا ہے ،پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں- اس کے ساتھ ساتھ یھاں  حضرت ابراہیم علیہ السلام  سے منسلک تین مذاہب تاریخی طور پر ‘خدا’ اور ‘تخلیق’ کے متعلق ترقی پزیرسائنسی پہلوؤں اور تھیوسوفیکل (صوفیانہ, خدائی حکمت) گہرائی  پر بھی نظرڈالیں گے-اسلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اصل ورثہ کے طور پر ظاہر ہوتا ہے جوعام تصور کہ؛ ‘اسلام ایک نیا مذھب ہے جو حضرت محمد ﷺ نے قایم کیا’ سے مختلف ہے- یہ کتاب”خالق کائنات کون؟’‘  چار کتب کے سلسلہ میں پہلی ہے، باقی تین  ‘تخلیق’ ، ‘راہنمائی’اور ‘اسلام حضرت ابراہیم علیہ السلام کا ورثہ’ ہیں جو کہ انگریزی میں اس لنک پر موجود ہیں: http://freebookpark.blogspot.com

…………………………………………………………………………………….. 



برقی کتاب (  html فارمٹ):  https://goo.gl/kgkTl8

برقی کتاب (Pdf فارمٹ): https://goo.gl/bsTBJt 

باب-1

تعارف

قُلِ اللَّـهُ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ وَهُوَ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ ﴿ ١٦الرعد﴾

” کہہ دو کہ خدا ہی ہر چیز کا پیدا کرنے والا ہے اور وہ یکتا (اور) زبردست ہے” (قرآن 13:16)

“اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اونگھ لگتی ہے زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اُسی کا ہے کون ہے جو اُس کی جناب میں اُس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟ جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اُس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی الّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی اُن کو دینا چاہے اُس کی حکومت آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور اُن کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے”(قرآن:255)

” کہہ دووہ الله ایک ہے ، اللہ بے نیاز ہے   نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ہے  اور اس کے برابر کا کوئی نہیں ہے ” (قرآن 112:1,2,3,4)

“تب یسوع نے کہا، “سب سے اہم حکم یہ ہے اے بنی اسرائیلیو سنو، خداوند ہمارا خدا ہی صرف ایک خداوند ہے”۔ (بائبل مرقس 12:29,استثناء :6:4)

“خداوند میرے آقا اس لئے تو بہت عظیم ہے تیرے جیسا کو ئی نہیں ، کو ئی خدا نہیں سوائے” (2 سموئیل 7:22)

“نیکی کی بابت تو مجھ سے کیوں پو چھتا ہے ؟ خداوند خدا ہی نیک اور مقدس ہے۔ اگر تو ہمیشگی کی زندگی کو پانا چاہتے ہو تو حکموں پر عمل کر”-( متّی; 19:17)

ایک عظیم طاقت کا تصورہمیشہ شروع سے انسانی فطرت کا حصہ رہا ہے- وہ عظیم طاقت جو  تمام کائنات، آسمان اور زمین کی  خالق اور حاکم ہے، جو کہ پہلا سبب ہے ہر چیزکے وجود اور وقوع پزیر ہونے کا- خدا پر اعتقاد کے بعد مختلف ثقافتوں میں اس کی عبادت کی گئی- ابتدائی طور پر اس عظیم قوت کی کوئی تصاویرنہیں تھیں اورنہ ہی کوئی  کاہن کسی مندر میں اس کی خدمت پر مامورتہے- وہ عظیم طاقت ایک محدود انسانی تصوریا مذہب سے بہت بلند تھا ۔  اسی لیےپہلے ایک قدیم قسم کے تصور توحید کی ابتدا ہوئی پھر بہت دیربعد لوگوں نے دیوتاؤں کی ایک بڑی تعداد کی عبادت شروع کر دی- جب لوگوں نے بہت سے  معاونین معبودوں کی تصا ویر اور بت بنا لئےتو بتدریج وہ عظیم ہستی لوگوں کے شعور سے دھندلا گیئ اور یہ شرک کا آغاز تھا- اس الٰہی، سپریم خالق اور پروردگارکا عربی میں نام الله، اردو میں خدا اور انگریزی میں گاڈ  God ہے ۔

پرانے افریقی قبائل اب بھی ایک ایسے عظیم معبود پر ایمان رکھتےہیں  جس نے کائینات کو تخلیق کیا اور اس پر حکمرانی کرتا ہے- انسانوں کے گروہوں کے خدا یا دیوتاؤں یا جس کسی کو بھی وہ مقدس، مافوقِ الفطرت طاقت و ہستی سمجھتے ہوں ، کے ساتھ  تعلق کو مذہب کے طور پر جانا جاتا ہے- لہٰذا مذہب وہ راستہ ہے جو اس پر چلنے والوں کو مشترکہ معبود کی عبادت اور رسومات کے زریعے باندھتا ہے- مذہب ایک ترتیب وار طرز زندگی ہے، جس سے معاشرے میں انسان  ایک روحانی زندگی بسر کرتاہے اور مغفرت پانے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔

مختلف مذاہب اپنے اصولوں، عقائد، رسومات اوربنیادی اعتقادات میں اختلاف رکھتے ہیں جن میں  مذہبی فضیلت مخصوص  تصور خدا اور خدا کی مرضی پراعتماد اور قبول کرنا شامل ہیں- اسلام ایک ہمہ گیراصطلاح “دین” استعمال کرتا ہے مذھب ‘دین’ کا ایک حصہ ہے- عربی میں دین کے معنی، اطاعت اور جزا کے ہیں- دین اسلام، عقائد ، عبادات کے ساتھ ساتھ زندگی گزارنے کے لیے مکمل ضابطہ حیات پیش کرتا ہے ، جس میں اخلاقیات، معاشرتی نظام ، معاشی نظام، قانون اور تمام شعبہ جات زندگی  شامل ہیں- قرآن دینی اتفاق پر زور دیتا ہے:

“اور بے شک یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تم سب کا رب ہوں پس مجھ سے ڈرو- پھر انہوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کر لیا ہر ایک جماعت اس ٹکڑے پر جو ان کے پاس ہے خوش ہونے والے ہیں” (23:52,53 قرآن)

جرمن ماہر الہیات، فلسفی، اور مذہبی تاریخ دان، رودلف اوٹو (1986-1937) نے’نومنووس’ (numinous ،مافوق الفطرت، اسطورہ یا روحانی) کی اصطلاح وضح کی تاکہ مذہبی تجربہ کے غیر منطقی عنصر کو تفویض کیا جائے، جس میں الہٰی کے تصور سے ‘خوف، توجہ اور خوشی کا احساس  دل میں پیدا ہوتا ہے- وہ سمجھتا  تھا کہ مذہب، سائنس سے  آگے اور اس سے الگ دنیا کی تفہیم فراہم کرتا ہے- انہوں نے کہا کہ ‘ مذہب کا سب سے اہم حصہ الفاظ کے ذریعے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مذہب کا  (بظاہر) ناقابل فہم حصہ ہے- مذہب کا مستحکم حصہ نظریاتی حصہ ہے جو بہت اہم ہے- لیکن ہم کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ایسا بہت کچھ ہے جس کو الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا-

ہر مذہب میں عام طور پر مشترکہ عقائد کا اپنا مجموعہ ہوتا ہےجن پرکمیونٹی مشترکہ طور پر عمل کرتی ہےاور وہ ان کی ثقافت، اقدارکا اظہار حکایاتِ، عقائد اور رسومات کے ذریعے کرتے ہیں- عبادت شاید مذہب کا سب سے بنیادی عنصر ہے، مگرعملی اخلاق، صحیح عقیدہ اور مذہبی اداروں کی شرکت بھی مذہبی زندگی کے عناصر ہیں ۔

مذہب انسانی دماغ میں اٹھنے والے بنیادی سوالات کے جواب دینے کی کوشش کرتا ہے، جیسے: خدا کا وجود، کائنات اور انسانیت کی تخلیق، انسانی دکھ درد، بدی، موت اوربعد از موت وغیرہ-

عظیم ابراہیمی مذاہب یہودیت، عیسائیت اور اسلام  ظاہری (بیرونی) مرکوزہیں، ان کے رسول اور پیغمبر خدا کی طرف سےبذریعہ وحی موصول آسمانی علم کے ذریعے انسانی ذہن میں اٹھنے والے بنیادی سوالات  کے جوابات سے ذہن کو مطمئن کرنے کی کوشش کرتے ہیں-

دوسری  طرف باطنی مرکوز مذاہب مثلاً ‘جین اور بدھ  مت  حقیقت کی اصلیت کے تصورکے  احساس کا استعمال کرتے ہیں-

جب تینوں ابراہیم سے منسلک مذاہب میں ‘خدا’ اور ‘تخلیق’ کے بارے میں فلاسفی، الہیات اور  سائنسی پہلوؤں کی تاریخی ترقی  کا جایزہ لیتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ:

“ابراہیم نہ تو یہودی تھے اور نہ عیسائی بلکہ سب سے بے تعلق ہو کر ایک (خدا) کے ہو رہے تھے اور اسی کے فرماں بردار تھے اور مشرکوں میں نہ  تھے ” (3:67 قرآن)

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پوتے ( حضرت اسحاق علیہ السلام  کے بیٹے) حضرت یعقوب علیہ السلام اور لیاہ کے چو تھے بیٹے کا نام  یہودہ  تھا، ان کےقبیلہ کے  نام پریہودہ سلطنت قائم ہوئی ، بعد میں تمام بنی اسرائیل ‘یہودی’ کے نام سے مشہور ہو گئے- عیسائیت  حضرت عیسیٰ علیہ السلام  سے منسوب ہےجو در اصل پال (صاؤل) کے ایجاد کردہ مذہب کے ماننے والے ہیں- حضرت عیسیٰ علیہ السلام حضرت مریم علیہ السلام کے بیٹے تھے جو کنواری ماں بنی تھیں ان کا سلسلہ حضرت داؤد علیہ السلام کی نسل سے ،حضرت اسحاق علیہ السلام سے حضرت ابراہیم علیہ السلام تک  ملتا ہے- حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مذہب جو خالص توحید تھا نسل در نسل اتنا بگاڑ دیا گیا کہ  حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو خدا کی تثلیث میں تیسرا اور خدا کا بیٹا بنا دیا گیا جو سراسر شرک اور دین ابراہیمی کی نفی ہے:

“یہودیوں نے کہا ، “ہما را باپ ابراہیم ہے۔” یسوع نے کہا ، “اگر تم حقیقت میں ابراہیم کے بیٹے ہو تو وہی کروگے جو ابرا ہیم نے کیا۔” (یوحنا 8:39)

“صحیفہ بھی یہی سب کچھ ابرا ہیم کے بارے میں کہتا ہے۔“ابرا ہیم نے خدا پر ایمان لا یا اور اس کے معاوضہ میں خدا نے اسے قبول کیا اور وہ خدا کے نزدیک راستباز ہوا۔”تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہا ابراہیم کے سچے لڑ کے وہی لوگ ہیں جو ایمان وا لے ہیں۔ (گلتیوں7 ، (3:6

چودہ سو سال قبل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دوسرے بیٹے اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے حضرت محمد ﷺ نے اصل دین توحید  ، دین ابراہیمی کو اس کی اصل روح میں وحی ،عقل و دلیل کی روشنی کے ساتھ بحال کیا- توحید کو پراسرار،لا یعنی مشرک عقائد سے پاک کیا جوانسانی عقل اوراصل سچائیوں پرجذباتی جہالت کے سا یئے ڈال دیتے ہیں- اس طرح جدید مذہبی ترقی کو نمائندگی ملی-  عام تصورہے کہ حضرت محمد  ﷺ ایک نیئے مذہب کےبانی تھے مگرحقیققت اس کے برعکس ہے ، اسلام، ابراہیم علیہ السلام کے اصل ورثہ  کے طور پرظہور پزیر ہوا جوایک ملت حنیفیہ یا ملت ابراہیمی جسے دین ابراہیمی بھی کہا جاتا ہے۔ حنیف؛ عقیدہ کا سچا اور پختہ، حق پرست، باطل کی ضد، حضرت ابراہیم علیہ السلام کا لقب تھا جس سے مذہب اسلام کو منسوب کیا جاتا ہے۔ آپکی ملت ” ملت حنیفیہ ” کہلائی جس کی اتباع و پیروی کا حکم حضرت محمد  ﷺ – کو بھی دیا گیا:

ثُمَّ اَوْحَیْنَآ اِلَیْکَ اَنِ اتَّبِعْ مِلَّۃَ اِبْرَاہِیْمَ حَنِیْفًا

‘پھر ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی کہ دین ابراہیم کی پیروی اختیار کرو جو ایک طرف کے ہو رہے تہے اور مشرکوں میں سے نہ تہے’. (النحل :16:123)

بنیادی عقائد:

مختلف عقاید جن میں خدا کے وجود پر ایمان رکھنا یا اس کے مخالف (جن میں درمیانی راستہ بھی شامل ہے) کے نتیجے میں مختلف اقسام کے نظریات وجود میں آ گئے جیسے کہ  خدا پرستی  (Theism)، توحید پرستی (Monotheism-موحد، ایک خدا پرست)، تھیوڈسی (Theodicy- خدا کی لامحدود طاقت کا برائی کی موجودگی میں دفاع)، دی ازم (Deism- مذہب فطرت ، اخلاقیات پر زورکیونکہ اس نظریہ کے مطابق خدا کائنات اور قوانین بنا کر مداخلت نہیں کرتا)، اگناسٹک (Agnosticism-خدا کےہونے یا نہ ہونے کے متعلق لا تعلق)، دہریت، الحاد ( Atheism- خدا کے وجود کا انکار) وغیرہ –

دی ازم (Theism) : اس نظریہ کے مطابق؛ تمام قابل مشاہدہ مظاہرایک سپریم طاقت پر منحصر ہے لیکن وہ اس عظیم طاقت سے  علیحدہ ہیں- ان کے خیال میں خدا انسانی تصور سے ماوراہے، وہ اعلی ہے ، اور بے نیاز ہے  مگر وہ ایک مخصوص طر یقہ سے کائینات اور اس کے معاملات میں دخل انداز ہے-

دیسٹ (Theists) نقطہ نظر کی حمایت میں عقلی دلائل اور تجربہ کرنے کی درخواست  پر انحصار کرتے ہیں- دی ازم (Theism) کے لئے ایک مرکزی مسئلہ شر کے وجود کے ساتھ ایک ایسے  خدا کا ملاپ کرنا رہا ہے جو عام طور پر مقتدر اور کامل سمجھا جاتا ہے  .

توحید (Monotheism) ؛ ایک خدا کے وجود پر ایمان ہےجو اس شرک سے مبرا ہے. توحید یہودیت، عیسائیت(کسی حد تک ) اور اسلام کی خصوصیت  ہے، جن کے مطابق خدا دنیا کا خالق ہےاورنگران بھی جو انسانی واقعات میں مداخلت کرتا ہے-  خدا رحمان اور مقدس ہے جوتمام  نیکیوں اوراچھائیوں کا منبع ہے-

تاریخی طور پرزیادہ تر دوسرے مذاہب مشرکانہ نظریات  رکھتے ہیں جس میں  لا تعداد دیوتاؤوں کے اوپرایک عظیم خدا کا تصور یا طاقتوردیوتاؤوں کے چھوٹے گروپ کے وجود کا اظہار ہے –

وہ توحید جو یہودیت عقائد میں شامل ہے قدیم اسرائیل میں شروع ہوئی، اس میں خدا (یاویح)Yahweh کوعبادت کا واحد مرکزمان کر، دیگر قبائل اور قوموں کے دیوتاؤں کو ابتدائی طور پر ان کے وجود کا انکار کیئے بغیر رد کیا گیا-

اسلام کےاقرار ایک، ابدی،غیرتخلیق  شدہ خدا ، الله پر یقین بالکل واضح ہے جس کےنہ کوئی برابر ، نہ ہی  کوئی شریک،  مسیحیت میں  ایک خدا ، پاک تثلیث کے تین افراد پرمشتمل ہے جو شرک کی ایک شکل ہے، اگرچہ مسیحی اس کو توحید کہتے ہیں-

تھیوڈسی (Theodicy) : اس نظریہ کی بنیاد خدا کی لامحدود طاقت کا برائی کی موجودگی میں دفاع کرنے پر ہے-  اچھائی اور برائی کے قابل مشاہدہ حقائق کے ساتھ انصاف اور دنیا میں دکھ کے ساتھ تعلق کا جواز پیش کرنے کے لئے ایک دلیل ہے ۔ بیشتر ایسے دلائل   تھیوڈسی  theism کا ایک ضروری جزو ہیں.

شرک polytheism  میں اچھائی اور برائی کے قابل مشاہدہ حقائق کےمسئلہ کودیوتاوں کے درمیان مرضی کے ٹکراؤ سے  منسوب کرکہ حل کیا جاتا ہے.

اس  مسئلہ کا  حل توحید میں اتنا سادہ نہیں، اور اس کی  کئی شکلیں ہیں  کچھ نقطہ نظر میں، خدا کی طرف سے پیدا کردہ  کامل دنیا کو انسانی نافرمانی یا گناہوں سے خراب کیا گیا – دوسرے نظریہ کے مطابق خدا دنیا کی تخلیق کے بعد دنیا کے معاملات میں دخل اندازی سے دستبردار ہوگیا اس لیے دنیا  انحطاط پزیر ہو گئی-

دی ازم Deism  : وحی یا کسی مخصوص مذہب کی تعلیم کی بنیاد کی بجائےصرف عقلی دلائل کی بنیاد پر  خدا واحد پرایمان (Deism)  ہے- یہ ایک قسم کا فطرتی مذہب ہے جو انگلینڈ میں سترھویں صدی کے آغاز میں  آرتھوڈوکس (روایتی) عیسائیت کو رد کرنے پر وجود پزیر ہوا- اس کے پیروکاروں  کا موقف ہے کہ محض انسانی  عقل سے فطرت میں خدا کے وجود کے ثبوت حاصل کئیے جا سکتے ہیں اور خدا نے کائنات تخلیق کر کہ اس کو اپنے بنا ئے ہوئے قوانین فطرت کے مطابق کام پر لگا دیا- فلسفی ایڈورڈ ہربرٹ (1583-1648)نے حقیقت خدا پر’ اپنا سچ’ کا نظریہ تخلیق کیا- اٹھارویں صدی عیسوی کے اواخر سے دی ازم Deism  یورپ کے تعلیم یافتہ طبقوں کا غالب مذہبی رویہ تھا ۔ اسے اسی دورکے بہت سے اپر کلاس امریکیوں سمیت پہلے تین امریکی صدور نے قبول کر لیا تھا-

اگناسٹک ازم  ((Agnosticism : ان تعلیمات کے مطابق کسی بھی وجود کو مظاہر کے تجربے کے بغیر معلوم نہیں کیا جا سکتا- یہ عام طور پرمذہبی تشکیک (religious skepticism) کے مترادف سمجھا جاتا ہے؛ اور خاص طور پرروایتی عیسائی عقائد کے جدید سائنسی سوچ سے  استرداد کے ساتھ مقبول ہے ۔ ان کا خیک ہے کہ خدا کے وجود یا غیر وجود کو عقلی طور  ثابت کرنا ممکن نہیں-  ٹی ایچ  ہکسلے(T. H. Huxley) نے اگناسٹک کی اصطلاح پیش کرنے کے بعد فلسفیانہ اگناسٹک ازم (روحانیت سے مخالف) کو 1869میں مقبول عام کیا جس کا مطلب یہ ہے کہ؛ ایسے لوگ  جو روائیتی ‘عیسائی-یہودی’ دی ازم (Theism) کو نہیں قبول کرتے مگرنظریاتی ملحد بھی  نہیں- اگناسٹک ازم Agnosticism کا سادہ مطلب ناکافی ثبوت کی بنا پر فیصلے کی معطلی ہو سکتا ہے یا پھر اس کو روایتی عیسائی تعلیمات کا استدرار (مسترد ) کہ سکتے ہیں-

الحاد (Atheism) :

 الحاد  خدا اور روحانی عقائد کی  تنقید اورمکمل انکار ہے. اگناسٹک ازم کے برعکس جو خدا کے وجود یا عدم وجود  کے سوال کو کھلا چھوڑ دیتا ہے، الحاد (Atheism) مکمل طورپر خدا کے وجود سے انکاری ہے- اس کی جڑیں فلسفیانہ نظام میں پیوستہ ہیں- قدیم یونانی فلسفیوں Democritus اور Epicurus نے مادہ پرستی کے تناظر میں اس کے لئے دلیل دی.

اٹھارویں صدی میں ڈیوڈ ہیوم اور کانٹ (David Hume and Immanuel Kant) اگرچہ ملحد نہ تھے مگر انہوں نے خدا کے وجود کے لئے روایتی ثبوتوں کی مخالفت میں دلائل دیئے اورخدا پرعقیدہ کوصرف ایمان کی حد تک محدود کردیا-  لڈوگ فیورباچ (Ludwig Feuerbach) جیسے ملحد  کا نظریہ کہ؛ خدا انسانی نظریات کا تجویز کردہ خیالی عکس ہے اوراس افسانہ نے خود اآگاہی کو ممکن بنایا۔

مارکسزم :    کارل مارکس (1818-1883)نے کہا تھا کہ ایک خوشحال معاشرے میں جمہوری دور کے بعد سوشلزم کا دور ہو گا اور اس کے بعد ایک ایسا دور جس میں طبقاتی فرق مٹ جائے گا۔ سویت یونین اور چین میں یہ تجربات کافی حد تک ناکام رہے لیکن مغربی یورپ کی فلاحی ریاستیں مارکس کی ہی تعلیمات کا ایک پرتو ہیں۔ اقبال نے طبقاتی اور سرمایہ داری نظام کا پول کھولا؛

اک بات اگر مجھ کو اجازت ہو تو پوچھوں حل کر نہ سکے جس کو حکیموں کے مقالات

وہ کون سا آدم ہے کہ تو جس کا ہے معبود وہ آدم خاکی کہ جو ہے زیر سماوات؟

رعنائی تعمیر میں ، رونق میں ، صفا میں گرجوں سے کہیں بڑھ کر ہیں بنکوں کی عمارات

ظاہر میں تجارت ہے، حقیقت میں جوا ہے سود ایک کا لاکھوں کے لیے ہے مرگ مفاجات

یہ علم، یہ حکمت، یہ تدبر، یہ حکومت پیتے ہیں لہو، دیتے ہیں تعلیم مساوات

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں ہیں تلخ بہت بندہ ء مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ؟ دنیا ہے تری منتظر روز مکافات

چارلس ڈارون کی ”تھیوری آف ایوولیوشن (Theory of Evolution) اور مذہب :

1859ء میں چارلس ڈارون نے  ”تھیوری آف ایوولیوشن“(Theory of Evolution) ‘نظریہ ارتقاء’ پیش کیا کہ: “ماحول کے مطابق حیاتی اجسام میں مسلسل تبدیلی اپنی بقاءکے لیے ہوتی ہے “۔ ڈارون نے اپنے نظریے میں انسان کی بات نہیں کی تھی مگر بہرحال اُس کا نظریہ ہر جاندار شئے پہ لاگو ہوتا ہے بشمول بنی نوع انسان کے- ڈارون کے نزدیک تمام جاندار اپنے اطراف کے ماحول میں زندہ رہنے کے لیے اپنی ہیت کو تبدیل کرتے رہتے  ہیں –

ڈارون نے نظریۂ ارتقاء پیش کرکے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا۔ اس سے کئی سو سال پہلے ابن مسکویہ(930-1030 C.E)، ابن جہیز (776-868 C.E) ، صوفی مولانا رومی  (1207-1273 C.E) نے حیاتیاتی نظریۂ ارتقاء پیش کردیا تھا ۔ ان کا نظریہ تھا کہ نباتی زندگی اپنے ارتقا کی اعلیٰ سطح تک بڑھنے کے لیے عمدہ زرخیز زمین اور مناسب موسم کا تقاضہ کرتی ہے، جو تنے، پتے اور پھل کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے، پھر بیچ کی شکل میں دوبارہ یہی ترقی کا  دور چلتا رہتا ہے۔ حواس کی آفرینش سے حیوان حرکت کی آزادی حاصل کرتا ہے، جب کہ کیڑوں ، رینگنے والی جانوروں، چیونٹیوں اور مکھیوں میں حیوانی زندگی کی تکمیل چوپائیوں میں گھوڑے اور پرندوں میں عقاب کی صورت میں ہوتی اور آخر میں حیوانی زندگی کا ارتقاء بوزنوں اور بن مانسوں کی صورت میں ہوتا ہے، جو انسان کے درجہ سے نیچے ہوتے ہیں۔ ارتقاء کی عضویاتی سطح پر تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں، انسان کی قوتِ تمیز اور روحانی قوتیں ترقی کرتی ہیں۔ (خطباتِ اقبال) –  ڈاکٹر حمید الله نے کھجور کے درخت کو  اس کی عمدہ مثال کہا –

نظریہ ارتقاء کے  مطابق، انسان بن مانس کی نسل سے تھا جو اپنے ماحول کی وجہ سے تبدیل ہو کر ویسا ہو گیا جیسا کہ آج ہے۔ خود بیسویں صدی کے تمام عظیم سائنسدانوں نے جن میں برٹرنڈرسل اور آئین سٹائین شامل ہیں، اعتراف کیا کہ ’’انسان‘‘ قدرت کا عظیم شاہکار ہے اور انسانی ’’ذہن‘‘ کی کرشمہ سازیاں کسی اور ’’نوع‘‘ میں نہیں پائی جاتیں اور یہی ایک ایسا وصف ہے جو ڈارون کے نظریہ کی تردید کے لیے کافی ہے۔

قرآن و حدیث سے یہ  واضح ہے  کہ زمین پر آج تک رہنے والے تمام انسان حضرت آدمؑ اور حوا کی اولاد ہیں آدم ؑ مٹی سے تخلیق کئے گئے اور اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے آدم ؑ کو بغیر والدین کے وسیلے کے پیدا کیا۔ کتاب اللہ واضح طور پر آدم اور حواعلیہما السلام کے بنفس نفیس اور براہِ راست وجود میں آنے کی گواہی دے رہی ہے۔آدم علیہ السلام کی تخلیق اپنی ذات میں ایک معجزہ تھی، ایک ایسی اٹل حقیقت جس کی، بذریعہ سائنسی ذرائع ، نہ تائید کی جا سکتی ہے اور نہ تردید۔ایمان بالغیب یہی ہے–  قرآن میں بیان کردہ وا قعات، معجزات اپنے اثبات کے واسطے بشری ذرائع کے محتاج نہیں؛کہ محدود انسانی عقل  و علم اسکا محاصرہ کرنے سے قاصر ہے۔ وقت کے ساتھ انسانی علم میں اضافہ قرانی آیات کو مزید سمجھنے میں مدد گار ہوتا آیا ہے-  نصوص سے البتہ یہی ظاہر ہے کہ آدم علیہ السلام کی تخلیق اپنی ذات میں ایک منفرد ترین واقعہ تھا، اور کائناتی عمل میں ایک یکتا قسم کی چیز۔ الله اگر چاہے تو اپنے حکم پر فوری عمل کروادے یا کسی طویل پراسیس کے ذریعے – کچھ مسلم  فلا سفہ اور علماء  اسلامی ماخذوں سے ”تھیوری آف ایوولیوشن“(Theory of Evolution) ‘ کی حمایت  یا  مخالفت میں دلائل دیتے ہیں – (اس  ٹا پک ا کا احاطہ دوسری کتاب “Creation” “تخلیق” میں تفصیل سے   کیا گیا ہے )-

’اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے؛ (39:62 ( ;”اور ہم نے پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی”‘ 21:30(

یہ ایک عام مغالطہ ہے کہ نظریۂ ارتقا کو ماننے سے خدا کی نفی لازم آتی ہے۔ حالانکہ نظریۂ ارتقا جانداروں کے وجود میں آنے کا بتدریج طریقہ بتاتا ہے-  یہ نہیں بھولنا چاہیئے کہ ؛ ”تھیوری آف ایوولیوشن“(Theory of Evolution) ‘  ابھی تک صرف ایک تھیوری ہے ، سائنٹفک فیکٹ نہیں ، بہت سے (missing links)  ہیں. خدا کے وجود کا ثبوت یا عدم کا ثبوت نظریۂ ارتقا کا موضوع ہی نہیں ہے۔ یہ تو ایک سائنسی موضوع ہے جس میں مادی اسباب کے تحت مختلف جانداروں کے وقوع پذیر ہونے کا طریقہ سمجھایا گیا ہے-  اس سے خدا کی ذات کی نفی ہرگز ہرگز لازم نہیں آتی۔مذہب اور خصوصاً الہامی کتابوں کے علماء  کو بھی اس بات کی ضرورت نہیں کہ  ہر بات کو کسی بھی طور سے سائنس سے ہم آہنگ بنانے کی کوششیں کرے یا کوئی سائنسی نظریہ جو مذہب سے بظاہر متصادم نظر آتا ہو اسی غلط ثابت کرنے پر اپنی توانائی خرچ کرے۔ اس کی وجہ مذہب کا موضوع ہے جو سائنسی نظریات سے کسی طرح متاثر نہیں ہوتا۔  بہتر یہ ہے کہ ایسے معاملات  میں سائنس کو اپنا کام کرنے دیا جائے۔ اور مذہب کو اپنا ۔ سائنس کا موضوع کبھی بھی مذہب نہیں ہوتا اور نہ ہی مذہب کا موضوع سائنس۔

فریڈرک  نطشے،  (1844-1900 ،Friedrich Nietzsche)    آزادانہ الحاد (existentialist atheism) خدا کے انتقال کا دعوی کرتےہوئے انسانی آزادی کا اعلان کرتا ہے تاکہ وہ اپنی قدر اور معنی کا تعین کرے- آزادانہ الحاد (existentialist atheism) ایک فلسفیانہ نظریہ یا نقطہ نظر ہےجو انفرادی طور پر انسان کو آزاد اور ذمہ دارنمائندہ سمجھتا ہے جو اپنی مرضی کی کارروائیوں کے ذریعے اپنی ترقی کا تعین کرتا ہے- منطقی مثبتیت (Logical positivism) کے مطابق خدا کے وجود یا عدم کی تجویز نامعقول یا بے معنی ہے-

ایک خدا کا تصور انسانی فطرت کا حصہ ہے:

حقیقت، وجود اور ذات کا مطالعہ (Ontology) میں کیا جاتا ہے،اس دلیل کا خلاصہ یہ ہے کہ خدا کا ہر ماننے والا اور ہر منکر چونکہ خدا کی ہستی کا تصور کرسکتا ہے، جو سب سے بلند و اعلیٰ ہے، چنانچہ یہ تصور ہی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ خارج میں بھی موجود ہے ۔ مجموعی طور پر فلسفیوں نے اس دلیل کا انکار کیا ہے جن میں ہیوم اور کانٹ شامل ہیں۔

قرآن میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس دنیا میں آنے سے قبل اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو پیدا کیا اور ان کو اپنے حضور جمع کر کے ان سے اپنے رب ہونے کا عہد لیا جسے ‘میثاق الست’  کہا جاتا ہے :

میثاق الست :

وَ اِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْۢ بَنِيْۤ اٰدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَ اَشْهَدَهُمْ عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ١ؕ قَالُوْا بَلٰى ١ۛۚ شَهِدْنَا١ۛۚ اَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غٰفِلِيْنَۙo اَوْ تَقُوْلُوْۤا اِنَّمَاۤ اَشْرَكَ اٰبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّيَّةً مِّنْۢ بَعْدِهِمْ١ۚ اَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُوْنَ o وَ كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰيٰتِ وَ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُوْنَ”(قرآن 174-7:172)

“اور اے نبی، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پُشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان  کے اوپر گواہ بناتے ہوئے  پوچھا تھا  ”کیا  میں تمارا رب نہیں ہوں؟“ انہوں نے کہا” ضرور آپ ہی ہمارے  رب ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں “۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز  یہ نہ کہہ دو کہ ”ہم اس بات سے بے خبر تھے“، یا یہ نہ کہنے لگو کہ ”شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے، پھر کیا آپ ہمیں  اُس قصُور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا۔“ دیکھو، اِس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں۔  اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں۔”(قرآن 174-7:172)

یہ معاملہ تخلیق آدم  کےموقع پر پیش آیا تھا ۔ اس وقت جس طرح فرشتوں کو جمع کر کے انسان اول کو سجدہ کریا گیا تھا اور زمین پر انسان کی خلافت کا اعلان کیا گیا تھا، اُسی طرح پوری نسلِ آدم کو بھی، جو قیامت تک پیدا ہونے والی تھی، اللہ تعالیٰ نے بیک وقت وجود اور شعور بخش کر اپنے سامنے (روحانی طور پر )   حاضر کیا تھا اور ان سے اپنی ربوبیت کی شہادت لی تھی۔

للہ تعالیٰ نے فی الواقع اُن تمام انسانوں کو جنہیں وہ قیامت تک پیدا کرنے کا ارادہ رکھتا تھا، بیک وقت زندگی اور شعور اور گویائی عطا کر کے اپنے سامنے حاضر کیا تھا، اور فی الواقع انہیں اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ کر دیا تھا کہ ان کا کوئی رب اور کوئی الٰہ اُس کی ذاتِ اقدس و اعلیٰ کے سوا نہیں ہے، اور ان کے لیے کوئی صحیح طریق زندگی  اُس کی بندگی و فرماں برداری (اسلام) کے سوا نہیں ہے۔ اس اجتماع کو اگر کوئی شخص بعدی از امکان سمجھتا ہے تو یہ محض اس کے دائرہ فکر کی تنگی کا نتیجہ ہے، ورنہ حقیقت میں تو نسلِ انسانی کی موجودہ تدریجی پیدائش جتنی قریب ازامکان ہے ، اتنا ہی ازل میں ان کا مجموعی ظہور، ابد میں ان کا مجموعی حشر و نشر بھی  قریب از امکان ہے۔  پھر یہ بات نہایت معقول معلوم ہوتی ہے کہ انسان جیسی صاحبِ عقل و شعور اور صاحب ِ تصرف و اختیارات مخلوق کو زمین پر بحیثیت خلیفہ مامور کرتے وقت اللہ تعالیٰ اسے حقیقت سے آگاہی بخشے اور اس سے اپنی وفاداری کا اقرار (Oath of allegiance ) لے۔ اس معاملہ کا پیش آنا قابلِ تعجب نہیں ، البتہ اگر یہ پیش نہ آتا تو ضرور قابلِ تعجب ہوتا ۔ (تفہیم القرآن)

اسی فطرت پر پھر دنیا میں ان سب کو ان کے وقت پر اس نے پیدا کیا ۔ یہی وہ فطرت ہے جس کی تبدیلی ناممکن ہے ، بخاری و مسلم میں ہے کہ ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ اس دین پر پیدا ہوتا ہے پھر اس کے ماں باپ اسے یہودی نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں جیسے کہ بکری کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے لیکن پھر لوگ اس کے کان کاٹ دیتے ہیں ، حدیث قدسی میں ہے کہ میں نے اپنے بندوں کو موحد و مخلص پیدا کیا پھر شیطان نے آ کر انہیں ان کے سچے دین سے بہکا کر میری حلال کردہ چیزیں ان پر حرام کر دیں ۔ ایک اور اسی طرح کی حدیث میں اضافہ ہے ،  اس کے راوی حضرت حسن فرماتے ہیں اسی کا ذکر اس آیت میں ہے کہ اللہ نے اولاد آدم سے اپنی توحید کا اقرار لیا ہے (ابن جریر)-

حضرت ابی بن کعب فرماتے ہیں اس میدان میں اس دن سب کو جمع کیا ، صورتیں دیں ، بولنے کی طاقت دی، پھر عہد و میثاق لیا اور اپنے رب ہونے پر خود انہیں گواہ بنایا اور ساتوں آسمانوں ، ساتوں زمینوں اور حضرت آدم کو گواہ بنایا کہ قیامت کے دن کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ ہمیں علم نہ تھا جان لو کہ میرے سوا کوئی اور معبود نہیں نہ میرے سوا کوئی اور مربی ہے ۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا میں اپنے رسولوں کو بھیجوں گا جو تمہیں یہ وعدہ یاد دلائیں گے میں اپنی کتابیں اتاروں گا تاکہ تمہیں یہ عہد و میثاق یاد دلاتی رہیں سب نے جواب میں کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ تو ہی ہمارا رب ہے تو ہی ہمارا معبود ہے تیرے سوا ہمارا کوئی مربی نہیں ۔ پس سب سے اطاعت کا وعدہ لیا اب جو حضرت آدم علیہ السلام نے نظر اٹھا کر دیکھا تو امیر غریب اور اس کے سوا مختلف قسم کے لوگوں پر نظر پڑی تو آپ کہنے لگے کیا اچھا ہوتا کہ سب برابر ایک ہی حالت کے ہوتے تو جواب ملا کہ یہ اس لئے ہے کہ ہر شخص میری شکر گزاری کرے ۔

اس اس سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس سے مراد فطرت ربانی ہے جس پر اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کو پیدا کیا ہے اور وہ فطرت توحید باری تعالیٰ ہے ۔ اسی لئے فرماتا ہے کہ یہ اس لئے کہ تم قیامت کے دن یہ نہ کہہ سکو کہ ہم توحید سے غافل تھے اور یہ بھی نہ کہہ سکو کہ شرک تو ہمارے اگلے باپ دادوں نے کیا تھا ان کے اس ایجاد کردہ گناہ پر ہمیں سزا کیوں ؟ پھر تفصیل وار آیات کے بیان فرمانے کا راز ظاہر کیا کہ اس کو سن کر برائیوں سے باز آ جانا ممکن ہو جاتا ہے۔ (تفسیر ابن کثیر)

اس کے بعد قرآن بیان کرتا ہے کہ اسی عہد کی بنیاد پر قیامت کے دن انسانوں کے لیے لاعلمی اور ماحول کا اثر کوئی عذر نہیں بن سکے گا۔ اس آیت سے جو بات واضح ہے وہ یہ ہے کہ خدا کا وجود انسانوں کی فطرت میں ہے۔ کوئی خارجی قرینہ نہ ہو تب بھی ایک خالق و مالک کا تصور فطرت انسانی کی پکار ہے۔ افریقی اور آسٹریلیا کے قدیم قبائل میں ایک خدا کا تصور اسی بات کی تصدیق کرتا معلوم ہوتا ہے-  اس کے برعکس کسی خدا کا نہ ہونا یا بہت سی ہستیوں کا خدا ہونا انسانی فطرت کے لیے ایک اجنبی چیز ہے۔ چنانچہ خارجی تصورات سے بلند ہو کر داخلی تصور کی بنیاد پر انسانی فطرت کو ایک خدا، کئی خدا یا خدا کے نہ ہونے میں سے کسی ایک چیز کا انتخاب کرنا ہو گا تو ایک خدا کا تصور اس کا فطری انتخاب ہو گا۔  پیغمبر، انبیاء اوراب مبلغین اس پیغام، عہد کو تازہ کرتے ہیں-

انڈکس  

تعارف

خدا کا وجود 

عقلی دلائل

تنقید

کوانٹم فزکس کے اسرار 

توحید ,شرک اور بائبل   

قرآن ایک دائمی معجزہ   

 صرف ایک خدا 

اختتامیہ 

خالق کائنات: ویڈیوز 

ATHEISM & HUMANISM 

The New Religions

Types of Humanism

Religious Humanism, Manifesto, Beliefs 

Existence of God

Philosophical Arguments for God

Criticism on Existence of God

Proof of  God & Scientific Facts in Qur’an 

Quran on Intellect قرآن اور عقل

Attributes of God & Science

Conceptualization of Faith

The Creator

Existence of God

Monotheism & Polytheism

One God

Quran- The Living Proof, Miracle 

برقی کتاب (  html فارمٹ):  https://goo.gl/kgkTl8

برقی کتاب (Pdf فارمٹ): https://goo.gl/bsTBJt 

……………………………………………………..

 



 

…………………..

http://www.dailymotion.com/widget/jukebox?list%5B%5D=%2Fplaylist%2Fx2pkel_Peace-Forum_universe-science-god%2F1&&autoplay=0&mute=0

لنکس –  References/Links

1.     http://salaamforum.blogspot.com/2017/01/creator.html

2.     http://justonegod.blogspot.com

3.     http://salaamforum.blogspot.com

4.     http://tanzil.net/

5.     http://www.tebyan.net/index.aspx?pid=160904

6.     https://ur.wikipedia.org/wiki/دین

7.         https://www.reference.com/world-view/did-socrates-believe-f38cce3e8932c602

8.     http://www.islamawareness.net/Buddhism/buddhist.html

9.     https://goo.gl/AejkU0

10.   https://en.wikipedia.org/wiki/Trinity

11.   The God: by Kerin Armstorng

12.   http://plato.stanford.edu/entries/trinity/trinity-history.html

13.   https://ur.wikipedia.org/wiki/تثلیت

14.   https://en.wikipedia.org/wiki/Son_of_God

15.   http://www.focusonthekingdom.org/Urdu.pdf

16.   https://faithforum.wordpress.com/claims-of-divinity-of-jesus-analysis/

17.   http://bible-christianity.blogspot.com/2014/01/Trinity.html

18.   https://www.biblegateway.com/passage/?search=1+John+5&version=NIV

19.   https://ur.wikipedia.org/wiki/شرک

20.   صفات متشابہات کی بحث:http://farooqia.com/ur/lib/1434/03/p5.php

21.   ا للہ تعالیٰ کی صفات عامہ اور مخلوق: http://www.thefatwa.com/urdu/questionID/16/

22.   http://salaamforum.blogspot.com/2016/12/does-allah-misguides.html

23.   https://ur.wikipedia.org/wiki/قرآن_اور_جدید_سائنس

24.   http://islam4humanite.blogspot.com/2011/07/amazing-quran.html 

25.   http://islam4humanite.blogspot.com/2011/10/quran-evidence-of-truth.html

26.   http://quraniscience.com/

27.   AftabKhan-net.page.tl 

28.   SalaamForum.blogspot.com

29.   http://Peace-Forum.blogspot.com

30.   http://FreeBookPark.blogspot.com

31.   https://twitter.com/AftabKhanNet

32.   https://www.facebook.com/AftabKhan.page

33.   https://www.facebook.com/groups/1God3Faiths

34.   https://plus.google.com/+AftabKhan-PeaceForum

35.   https://www.youtube.com/c/PeaceForum

36.   http://www.dailymotion.com/Peace-Forum  

37.   Encyclopedia Britanica

38.   Wikipedia 

خدا نے پاکستان کو کس قدر عطا کیا ہے



قدرت نے پاکستان کو کئی نعمتوں سے نوازا ہے اور ہماری دھرتی کو بہت ہی خوبصورت مقامات عطا کیے ہیں، آئیے آپ کو پاکستان کے ایسے مقامات کے بارے میں بتاتے ہیں جو بے حد حسین ہیں۔ آپ کو زندگی میں ایک بار ضرور ان مقامات کو دیکھنا چاہیے ۔

کلر کہار: موٹروے ایم 2 سے اسلام آباد جاتے ہوئے چکوال کے قریب یہ مقام آتا ہے۔ یہاں پر موجود ایک خوبصورت جھیل اس کے حسن میں مزید اضافہ کر دیتی ہے۔ موروں، مختلف پھلوں، اور رنگ برنگے پھولوں کے سبب یہ مقام انتہائی جاذب نظر ہے۔ یہاں سیکورٹی کا بھی بظاہرکوئی مسئلہ نہیں جبکہ متعدد سیاحتی مقامات کی طرح یہاں زیادہ مہنگائی بھی نہیں ہے۔ آپ بآسانی اپنے بجٹ میں رہتے ہوئے اس سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں ۔

موہنجو داڑو: سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے یہ تاریخی مقام صرف 30 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ وادیٔ سندھ کی تہذیب کا یہ شہر اڑھائی ہزار قبل مسیح کے لگ بھگ تعمیر ہوا۔ اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسکو اسے عالمی ورثہ قرار دے چکا ہے۔

مری: اسلام آباد سے تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر واقع یہ شہر بیشتر سیاحوں کا پسندیدہ مقام ہے۔ سردی کا موسم ہو یا گرمی کا یہاں کی رونقیں ماند نہیں پڑتیں۔



ٹھنڈیانی: ایبٹ آباد کے شمال مغرب میں 31 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع یہ علاقہ بہت ہی خوبصورت ہے۔ اس کو خوبصورتی اور ٹھنڈے موسم کی مناسبت سے ٹھنڈیانی کہا جاتا ہے اور اس علاقے میں سال کے ہر مہینے میں آیا جا سکتا ہے اور ساتھ ہی سستے ہوٹلوں میں اچھی رہائش کا لطف اٹھایا جا سکتا ہے۔

وادیٔ کیلاش: یہ وادی خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں واقع ہے۔ یہاں منفرد زبان اور ثقافت کا حامل کیلاش قبیلہ آباد ہے۔ اپنے پُرفضا مقامات اور خوبصورتی کی وجہ سے یہ وادی پوری دنیا میں پسند کی جاتی ہے۔

سوات: یہ خوبصورت مقام خیبر پختو نخوا میں واقع ہے اور اس کو خوبصورتی کی وجہ سے ایشیا کا سوئٹزر لینڈ بھی کیا جاتا ہے۔ اسے یہ خطاب ملکہ برطانیہ نے اپنے 1961ء کے دورۂ پاکستان کے موقع پر دیا تھا۔ وہ اس وادی کو دیکھنے کے بعد بہت متاثر ہوئیں۔



زیارت: صوبہ بلوچستان کے اس مقام کو یہ شرف حاصل ہے کہ بابائے قوم قائد اعظمؒ نے اپنے آخری ایام یہاں گزارے تھے اور انہیں اس سے خاص رغبت تھی۔ کوئٹہ سے 125 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع اس مقام کا درجہ حرارت گرمیوں میں بھی خوشگوار رہتا ہے اور سیاحوں کو آنے کی دعوت دیتا ہے۔

وادیٔ نیلم: آزاد کشمیر کے دریائے نیلم کے ساتھ واقع یہ وادی خوبصورت درختوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ وادی کاغان کے متوازی واقع ہے اور ان دونوں وادیوں کو تقریباً چار ہزار فٹ بلند پہاڑی سلسلے جدا کرتے ہیں۔

شندور ٹاپ: خیبر پختونخوا کے ضلع چترال میں واقع اس مقام کی بلندی تقریباً 12200 فٹ ہے۔ اس کی خاص بات پولو میچز ہیں، جو ہر سال یہاں منعقد کیے جاتے ہیں جس میں گلگت اور چترال کی ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔ یہاں دنیا کا سب سے بلند پولو گرائونڈ ہے ۔

دیوسائی میدان : پاکستان کے شمال میں یہ میدان سکردو، گلتاری، کھرمنگ اور استور کے درمیان واقع ہے۔ ان کی اونچائی تقریباً 13497 فٹ ہے۔ مقامی زبان میں دیوسائی کا مطلب جنات میں زمین ہے۔ اس کے بارے میں مشہور ہے کہ یہ جگہ جنات کی قیام گاہ ہے۔ یہ جگہ غیر گنجان آباد ہے۔ یہاں کا موسم انتہائی سرد ہے اور یہاں طوفان آتے رہتے ہیں۔ یہاں مختلف طرح کے جنگلی جانور پائے جاتے ہیں ۔